About Me

header ads
Showing posts with the label شیخ ابوسعید صفویShow All
جمال خسر و خوباں مرے دل سے کوئی پوچھے
مصطفیٰ  کی صورت میں شان کبریائی ہے
وہ ادا تو نے صنم پائی ہے
اتنی ہے کہاں تاب وہ بے پردہ نہ آئیں
عشق کی ناکامیابی کامیابی کی دلیل
خیال توبہ اور عشق بتاں سے
نہ سمجھو مشت پر مجھ کو امین راز جاناں ہوں
مستی میں گر جو چھیڑوں میں ساز عارفانہ
تیر قضا کو کیف میں حسن ادا کہوں
ہرذرہ یہاں آئینۂ حسن ازل ہے
لب خاموش جو سر چشمۂ تقریر بھی ہے
وہ کوہ ہمالہ ہو کہ ورق گل و لالہ
وصل کی شب ہائے بے حد دل کی بے تابی رہی
ازل سے میری کیفیت یہی ہے
نہ پوچھو یہ کسی سائنس داں سے
سر کی قسم ہے یار کریں اف نہ ہم کبھی
اسی پردے میں وہ جان جہاں ہے
تمہیں کیا بتائیں کہاں وہ چھپا ہے
اس آستاں پہ جبیں رکھ کے پھر اٹھا نہ سکے
مظہر ذات کبریا ہوں میں